بنگلورو:31؍اگست(ایس او نیوز) آج کل ملک اور ریاست میں کئی فرقہ وارانہ واقعات پیش آرہے ہیں۔ قومی جرائم ریکارڈز بیورو(این سی آر بی) نے کل اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی۔ اس کے تحت سب سے زیادہ فرقہ وارانہ واقعات کے معاملہ میں 2015ء کے دوران کرناٹک دوسرے نمبر پر ہے۔ اس سال ریاست میں 6؍ہزار 603؍ ایسے واقعات پیش آئے جن میں پرتشدد واقعات اور احتجاجات کے بے قابو ہوجانے کے معاملات بھی شامل ہیں۔ ’’کرائم ان انڈیا۔2015‘‘ رپورٹ میں اس بات کی اطلاع دی گئی ہے۔ مذکورہ تعداد میں سے 163؍واقعات کا تعلق فرقہ وارانہ تشدد سے ہے جن میں 203؍افراد متاثر ہوئے۔ اس طرح ریاست اس معاملہ میں ہریانہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ این سی آر بی نے 2014ء میں جو معاملات درج کئے تھے۔ اس کے مقابلہ اس بار 38؍واقعات زیادہ ہیں۔ اس طرح سیاسی فسادات کے زمرے میں کرناٹک کے 166؍ معاملات ہوئے ہیں اور 342؍افراد متاثر ہوئے۔ اس معاملہ میں بھی کرناٹک کا دوسرا مقام ہے جبکہ کیرلا پہلے نمبر پر ہے۔ تاہم پولیس نے کہاکہ یہ اعدادوشمار حقیقی نہیں ہیں۔ اس کا کہناہے کہ تعداد میں اضافہ اشتعالی پولیسنگ کی وجہ سے ہواہے اور فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی گئی ہے۔ لیکن کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ قوم پرستی، جانوروں کے ذبیحہ اور سیاسی مفادات کی وجہ سے ریاست میں تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ اسی دوران ملک میں اطلاعاتی ٹکنالوجی (آئی ٹی) کا صدر مقام شہر بنگلور سائبر جرائم کی فہرست میں ایک بار پھر سب سے اوپر ہے۔ یہ ایسے سائبر جرائم ہیں جن کی اطلاعاتی ٹکنالوجی قانون کے تحت معاملات درج ہوئے ہیں۔ 2015ء کے دوران مجموعی طورپر ایک ہزار 41؍معاملات درج ہوئے جبکہ 2014ء میں یہ تعداد 675؍تھی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ بڑھتی ہوئی عدم بیداری اور سائبر کرائم پولیس تھانوں کی تعداد میں کمی کی وجہ سے ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی معاملات کی رپورٹ ہی نہیں کی جاتی۔ این سی آر بی کی رپورٹ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے معاملہ میں بھی تشویشناک ہے۔ شہر میں 2015ء کے دوران 54، جہیز اموات ہوئی ہیں جبکہ 2014ء میں 57، ایسی اموات ہوئی تھیں۔ یعنی کچھ کمی ہوئی ہے۔ بنگلور ایسے میٹرو شہروں میں بھی سرفہرست ہے۔ جہاں جنسی استحصال سے بچوں کا تحفظ (پوکو) قانون کے تحت بہت زیادہ جرائم ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال یہاں 273 ایسے واقعات پیش آئے جن کا 276؍بچے شکار ہوئے۔